محبتوں کا یہی سرمایہ رکھو
دل میں ہر اک کے لیے دریا رکھو
جو تمہیں تھوڑی سی چاہت دے
تم اسے چاہت کا صحرا رکھو
زخم دینے والے بھی اپنے ہیں
ان کو معافی کا راستہ رکھو
رنجشوں سے کبھی نہیں کھلتے دل
لفظ میٹھے اور لہجہ نرم رکھو
وفا بانٹو تو حساب نہ کرنا
ہر تعلق کو عبادت سا رکھو